Islamic Dar-ul-Ifta
Ifta.Sunehri1990@Gmail.Com / +92997382392 / +923335602069/ اسلامک دارالافتاء جامعہ منہاج العلوم سنہری مسجد مانسہرہ پاکستان
Wednesday, 3 April 2019
Tuesday, 5 February 2019
شوهر كي رضامندي كے بغير عدالتي خلع شرعا معتبر نهيں هے۔ مهر لڑكي كا حق هے ۔نافرمان بيوي خرچه لينے كي حقدار نهيں هے
اَلسَلامُ عَلَيْكُم
وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں مفتیان
کرام صاحبان مندرجہ زیل مسائل کے بارے میں
”میری بیوی زینب بی بی
بنت نواب خان نے مجھ سے زبردستی اور میری اجازت اور رضامندی کے بغیر 20 ماہ تک
اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے کہنے ان ہی کے گھروں پر بیٹھی رہی۔
میری بیوی نے مجھے 20
ماہ تک حقوق زوجیت جیسی عظیم نعمت سے محروم رکھا اور 20 ماہ تک اس نے میری نافرمانی
کی۔
پھر 20
ماہ کے بعدمیری بیوی نے مجھ سے عدالت میں خلع لینٕے کے لیے مقدمہ دائر کیا۔ اور
مجھ پر خودساختہ اور من گھڑت اور جھوٹے الزامات لگائے کہ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق
نہیں تھا۔ میری بیوی نے عدالت میں یہ جھوٹا بیان بھی دیا کہ مجھے میرے شوہر نے میرا
حق مہر بھی ادا نہیں کیا۔ جب کہ میں نے بیوی کو تین تولے سونے کی مد میں اس کا حق
مہر ادا کیا تھا اور یہ بات میرے نکاح نامہ سے بی ثابت تھی۔اور ابھی تک میرا حق
مہر میری بیوی کے پاس پڑا ہوا ہے۔
میں عدالت میں حاضر
ہوا ااور حلفیہ بیان دیکر کر انکے تمام الزامات کو کمرہ عدالت میں رد کیا۔اور
پرزور الفاظ میں اسکی مزمت بھی کی۔ میں نے عدالت کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ میں
اپنی بیوی کو اپنانا چاہتا ہوں اسکو اپنے گھر میں رکھنا چاہتا ہوں اور میں اپنی
زندگی میں کسی بھی صورت اور قیمت پراپنی بیوی کو طلاق یا خلع نہیں دونگا۔
لیکن عدلت نے میری بیوی
کے الزامات کو جواز بنا کر میری اجازت اور رضامندی کے بغیر، میری موجودگی میں اور
وہ بھی بغیر کسی شرعی سبب اور عزر کے اور وہ بھی بغیر کسی گواہان کے میری بیوی کو یک
طرفہ عدالتی خلع کی ڈگری جاری کر دی کی اب تم اپنے شوہر سے آزاد ہو اور کسی بھی
جگہ شادی کر سکتی ہوں“
(1)کیا شرعی طور پر میری بیوی کو یہ خلع ہو گیا؟
اور میری بیوی اب میرے نکاح میں نہیں رہی؟
(2) کیا میری بیوی اب
اس یک طرف عدالتی خلع کو جواز بنا کر کسی دوسری جگہ شادی کر سکتی ہے؟یعنی نکاح پر
نکاح کر سکتی ہے؟
(3)میری بیوی نے جو
جبراً میرا حق مہر اپنے پاس رکھا ہوا ہے شریعی طور کیا یہ میری بیوی کے لیے حلال
ہے جبکہ میں کسی صورت میں بھی انہی بیوی کا حق مہر نہیں لینا چاہتا۔
(4)میری بیوی جو مجھ
سے زبردستی 20 ماہ تک اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے گھر
پر بیٹھی ہوئی تھی عدالت نے مجھے 60 ہزار روپے نان ونفقہ کی مد میں اپنی بیوی کو
ادا کرنے کو کہا جو میں نے ادا بھی کیے۔کیا میری بیوی کے لیے یہ 60 ہزار روپے کی
نان ونفقہ کی رقم جائز اور حلال ہے؟
(5)اب میری بیوی کو
اسکی بڑی بہن نے راولپنڈی میں اپنے گھر میں پناہ دی ہے اور میری بیوی کے لیے رشتے
ڈونڈ رہی ہے۔ شریعت میری بیوی کی اس بڑی بہن کے بارے کی کیا فرماتی ہے کہ جس نے میری
بیوی کو اپنے گھر میں پناہ دیکر میری بیوی کو مجھ سے جدا کر اپنے گھر پر رکھا ہوا
ہے اور اس عورت کے لیے یعنی میری بیوی کی اس بڑی بہن کے لیے کیا عذاب اور سزا ہے؟
جزاك اللهُ
فضل ربی سائٹ میٹروول کراچی
|
|
بسم اللہ الرحمٰن
الرحیم
الجواب حامداً و مصلیاً
مفتی غیب نہیں جانتا ،بلکہ وہ
سوال کے مطابق جواب دیتا ہے۔ سوال کے سچ یا جھوٹ ہونے کی ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔
غلط بیانی کرکے اپنے مطلب کا فتویٰ حاصل کرنے سے حرام ، حلال نہیں ہوتا اور نہ
حلال ، حرام ہوتا ہے،لہذا اگر کوئی غلط بیانی کے ذریعہ فتویٰ حاصل کرے گا تو اس کا
وبال اسی پر ہوگا۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالوں کا جواب یہ ہے کہ
1۔۔۔خلع ایک ایسا عقد
ہے جسکا تحقق میاں بیوی کی رضامندی کے
بغیر نہیں ہوسکتا ۔خاوند کی رضامندی کے
بغیر عدالت شرعاً خلع کو خاوند پر مسلط
نہیں کر سکتی ہے اور اگر عدالت نے ایسا کر
بھی دیا ہے یا کردیتی ہے تو عورت خاوند کے نکاح سے خارج نہیں ہوگی۔
لہذا سوال میں بیان کردہ
صورت حال کے مطابق آپ عدالت میں حاضر ہوکر اور خلع قبول کرنے سے انکار کے باجود یہ آپ کی بیوی کو خلع کی ڈگری دی گئی ہے تو یہ خلع
شرعاً صحیح نہیں ہوا ہے
اور اِس صورت میں اب بھی آپ دونوں
کا نکاح برقرار ہے۔
وفی الدر المختار مع حاشية ابن عابدين (رد المحتار)(3/441)
وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا
كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق
العوض بدون القبول۔
و في تبيين الحقائق : (2/271)
ولا بد من قبولها ؛ لأنه عقد
معاوضة أو تعليق بشرط فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول ۔۔۔إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه۔
و في المبسوط للسرخسي : (6/171)
فَيَحْتَمِلُ الْفَسْخَ بِالتَّرَاضِي أَيْضًا، وَذَلِكَ
بِالْخُلْعِ، وَاعْتَبَرَ هَذِهِ الْمُعَاوَضَةَ الْمُحْتَمِلَةَ لِلْفَسْخِ
بِالْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ فِي جَوَازِ فَسْخِهَا بِالتَّرَاضِي
2۔۔۔شرعی اصول کے
مطابق ایک مرتبہ نکاح صحیح ہو گیا تو جب تک شوہر کا انتقال نہ ہو جائے یا شوہر
طلاق نہ دے اور اس کی عدت نہ ختم ہو جائے اس منکوحہ کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز
نہیں ہے،ایسا کرنا سخت گناہ اور زنا ہے۔
صورت مسؤلہ میں
بیان کردہ صورت حال کے مطابق عدالت کی طرف سے دی گئی یک طرفہ خلع کی ڈگری کو جواز کو بناکر دوسری جگہ شادی کرنا جائز نہیں ہے بلكه
حرام ہے۔
فتاویٰ عالمگیری نولکشور 2/10
لا یجوز للرجل أن یتزوج زوجة غیره،
الفتاویٰ التاتار خانیة 4/66
|
جاری ہے
|
3۔۔۔ مہر عورت کا شرعی حق ہے ،اور یہ
کسی صورت ساقط نہیں ہوتا جب تک عورت خود معاف نہ کرے۔جبکہ صورت مسؤلہ میں خلع ہی
صحیح نہیں ہے ، اس لیے آپ کی منکوحہ کا حق مہر اُسی کا ہے اور اس کا استعمال اس کے لیے جائز ہے۔
وفی الدر
المختار مع حاشية ابن عابدين (رد المحتار)(3/102)
ويتأكد (عند وطء أو
خلوة صحت) من الزوج (أو موت أحدهما)۔
4۔۔۔
شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے جانی
والی عورت (نافرمان کہلاتی ہے ) جس
کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ واجب نہیں ہے ۔ جب تک وہ شوہر کے
پاس واپس نہیں آتی ۔
لہذا صورت مسؤلہ میں آپ کی بیوی آپ کی اجازت کے بغیر اپنے بھائیوں کے گھر گئی ہے اور اس دوران کا خرچہ آپ سے مانگ رہی ہے تو یہ آپ پر شرعاً لازم نہیں ہے اور نہ ہی عدالت زبردستی آپ
پر لازم کرسکتی ہے۔
و في
الفتاوى الهندية : الفصل الاول في نفقة
الزوجة:(1/545)
وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله
والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها۔
5۔۔۔ناجائز و حرام کام
میں کسی کی مدد کرنا بھی ناجائز و حرام ہے، آپ کی سالی اگر آپ کی منکوحہ کے نا جائز نکاح میں مدد کر
رہی ہے تو یہ اس کے لیے جائز نہیں ہے ، اسے چاہئے کہ وہ صدق دل سے توبہ کرے ۔
چنانچہ
فرمان باری تعالیٰ ہے :
قَالَ
اللّٰهُ تَعَالیٰ وَلاَ تَعَاوَنُوا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ
(ترجمہ) اور گناہ اور زیادتی کی باتوں میں ایک دوسرے کی
اعانت مت کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه : جلال الدين
دارالافتاء جامعہ منہاج العلوم سنہری مسجد مانسہرہ
۳٠جمادی الاول۱۴۴۰ھ
5 فروری 2019ء
03335602069/03349140360
Wednesday, 30 January 2019
بیوی کو طلاق دینے کے بعد شوہر انکار کرے تو ایسی صورت میں بیوی کیا کرے گی ؟
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس
مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر نے کئی بار مجھے طلاق دے چکے ہیں ، اب وہ
اس بات کا انکار کر رہے ہیں کہ میں
نے طلاق نہیں دی، اور میرے پاس میرے دو
بالغ بیٹے گواہ موجود ہیں اس صورت میں میرے لیے شریعت کا کیا حکم ہے ؟
﷽
الجواب
حامدا و مصلیا
مذکورہ
صورت میں بیٹے والدین کے حق میں شرعی گواہ
نہیں بن سکتے ہیں لہذا صورت مسؤلہ اگر واقعۃً آپ کے شوہر نے آپ
کو تین طلاقیں دے چکیں ہیں اور اب وہ
طلاق کا انکار کرتے ہیں تو آپ پر شرعاً لازم ہے کہ،آپ اپنے شوہر کو اپنے اُوپر ہرگز قدرت نہ دے۔اور
کسی بھی جائز طریقے(عدالت وغیرہ) سے جدائی کی کوشش کریں ۔
وفی الدر
المختار مع حاشية ابن عابدين: (3/251)
والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا
يحل لها تمكينه ۔ والفتوى على أنه ليس لها قتله ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب
كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه ۔
وفی الهندية :(1/357)
والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو
شهد به شاهد عدل عندها۔
و في البحر
الرائق : (7/80)
(قوله الولد لأبويه وجديه و عكسه ) اي لم
تقبل شهادة الفرع لأصله والأصل لفرعه ۔
فتاویٰ عثمانی
: جلد دوم ،صفحہ ، (349)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط
واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم بالصواب
كتبه : جلال الدين
دارالافتاء جامعہ منہاج العلوم سنہری مسجد مانسہرہ
۵جمادی الاول۱۴۴۰ھ
12جنوری 2019ء
03335602069/03349140360
Friday, 11 January 2019
Islam Main Teen Talaq Se Bachne Ka Tariqa Fatwa By Islamic Darul-Ifta Sunehri Masjid Mansehra Pakistan
Islam Main Teen Talaq Se Bachne Ka Tariqa Fatwa By Islamic Darul-Ifta Sunehri Masjid Mansehra Pakistan
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک
شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے اگر فلاں کے گھر
جائے گی تو تو مجھ پر تین شرطیں طلاق
اگر بیوہ اس گھر میں چلی جائے تو
کتنی طلاقیں واقع ہوں گی ؟۔ نیز تین
طلاقوں سے بچنے کی کوئی تدبیر ہے تو قرآن
و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں ۔
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب
حامدا و مصلیا
صورت مسؤلہ میں اگر
شخص مذکور کی بیوی اُس گھر میں جائے گی
تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع
ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا اور حرمت مغلظہ ثابت ہوجائے گی جس کے بعد حلالہ شرعیہ کے بغیر
ان کا آپس میں دوبارہ نکاح ممکن نہیں ہوگا ۔کیونکہ
طلاق معلق کی صورت میں شرط کی موجودگی میں طلاق کا واقع ہونا ایک ضروری امر ہے ۔( چاہے ایک ہویا دو ہوں یا
تین طلاقیں ہوں)
تاہم اس سے بچنے کے لئےیہ تدبیر اختیار کی جاسکتی ہےکہ شخص
مذکور اپنی بیوی کو
ایک طلاق بائن دے ،عدت گزر جانے کے
بعد اُس کی بیوی بائنہ ہوکر اُس کے نکاح
سے نکل جائے گی ۔اور آزادی کی حالت
میں بیوی اس گھر میں چلی جائے جس سے روکا گیا تھا ،چونکہ
عورت اس وقت اپنے شوہر کے ملک ِ
نکاح میں نہ ہونے کی وجہ سے طلاق پر کوئی اثر نہیں پڑےگا ۔اور ایک
دفعہ حانث ہونے سے یمین
پورا ہوجاتا ہے ۔دوبارہ وہ کام کرنے سے حنث لازم نہیں آتا ۔ ( یعنی اس حیلہ کو
اختیار کرنے کے بعد دوبارہ شخص
مذکور کی بیوی منع کیے گئے گھر جانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی) ۔ البتہ :اس تدبیر کو اختیار
کرنے کے بعد دوبارہ نکاح کرنے سے اُس شخص کو آئیندہ دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے
گا ۔
وفی الدر المختار مع حاشية
ابن عابدين (رد المحتار)(3/354)
لو حلف لا تخرج امرأته إلا بإذنه فخرجت بعد الطلاق
وانقضاء العدة لم يحنث وبطلت اليمين بالبينونة، حتى لو تزوجها ثانيا ثم خرجت بلا
إذن لم يحنث.
و فی البحر الرائق : (4/23)
لو حلف لا تخرج امرأته إلا بإذنه فخرجت بعد الطلاق
وانقضاء العدة لم يحنث، وبطلت اليمين بالبينونة حتى لو تزوجها ثانيا ثم خرجت بلا
إذن لم يحنث۔
وفی الدر المختار مع حاشية
ابن عابدين (رد المحتار)(3/355)
فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها
واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها
كما في البقرة:( 230)
وقوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} ۔
و فی الهداية :(2/385)
وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن
يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال
والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا۔۔۔۔۔۔فقط
واللہ سبحانہ
وتعالیٰ اعلم بالصواب
جلال الدین عفیٰ اللہ عنہ
كتبه : جلال الدين
دارالافتاء جامعہ منہاج العلوم سنہری مسجد مانسہرہ
٧محرم الحرام ۱۴٤٠ھ
18ستمبر 2018 ء
Subscribe to:
Comments (Atom)




